آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میں
Ejaz Asifآ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میں
پھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میں
کہہ رہی ہے ساحلوں سے ڈوبنے والے کی لاش
میں نے پایا ہے سکوں اک مضطرب گرداب میں
کانپ اٹھا ہوں ورود بارش موعودہ پر
غرق ہونے کو ہے سارا شہر سیل آب میں
میرے ہاتھوں میں اگر تقدیر صبح و شام ہو
تتلیاں تعبیر کی رکھ دوں کتاب خواب میں
خاک کے پتلے نے آخر کر دیا افشا اسے
دفن تھا جو راز اب تک سینۂ مہتاب میں
سامنے کی چیز میں آصفؔ نہیں کوئی کشش
تک نہ یوں حیرت سے اپنے عکس کو تالاب میں