راز غم افشا کروں یا راز رکھوں راز میں

Uma Shankar Shadan Gwaliori

راز غم افشا کروں یا راز رکھوں راز میں

حکم ہو تو کچھ سناؤں آپ کی آواز میں

تم نے ہنس کر فرق ڈالا ہے یہ سوز و ساز میں

ورنہ دونوں نغمہ زن تھے ایک ہی آواز میں

جب یہ سمجھا غم کا ہر انجام اک آغاز ہے

میں نے خود انجام شامل کر لیا آغاز میں

میں تو اچھا ہوں مگر اے چارہ گر یہ تو بتا

فرق کیوں محسوس کرتا ہوں تری آواز میں

ہو چکی ترکیب ناقوس و اذاں نا کامیاب

سوچتا ہوں اب پکاروں کونسی آواز میں

آپ سے جب آپ کے شاداںؔ کو نسبت ہی نہیں

ربط کیسا ہے یہ اس کی آپ کی آواز میں