جو نہیں ممکن کبھی ممکن وہ ہونا چاہیئے
Urooj Zehra Zaidiجو نہیں ممکن کبھی ممکن وہ ہونا چاہیئے
وہ نہیں میرا مجھے تو اس کا ہونا چاہیئے
اور تو کچھ بھی نہیں لیکن سکون قلب کو
ماں کے پہلو کی طرح کا اک بچھونا چاہیئے
میرا یوسف غیب میں ہے اور میں روتی نہیں
ہجر کا مجھ سے تقاضہ ہے کہ رونا چاہیئے
اس محبت کا اصل اس کے سوا کچھ بھی نہیں
عمر ایسی ہے کہ تم کو اک کھلونا چاہیئے
دن سنہرا ہے تو اپنے آپ سے مل لو ضرور
شام تا شب تو فقط تکیہ بھگونا چاہیئے
آج فرصت ہے تو زہراؔ فیصلہ اب خود کرو
چین کھویا نیند کھوئی اب کیا کھونا چاہیئے