مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرد

Tabassum Anwar

مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرد

دشت وحشت میں فقط میری ملاقاتی ہے گرد

دشت میں بسنا مجھے اس واسطے راس آ گیا

گرد سے مل کر مری ہستی بھی بن جاتی ہے گرد

رائیگانی کا ستاتا ہے مجھے احساس جب

زندگی کا سوچتی ہوں یاد آ جاتی ہے گرد

پھر کوئی وحشت گھمائے دائرہ در دائرہ

گھیر کر جب بھی مجھے صحرا میں لے جاتی ہے گرد

آئنہ یادوں کا اب کھونے لگا ہے آب و تاب

کچھ تو کھائے زنگ اس کو اور کچھ کھاتی ہے گرد

دورئ منزل ہو کم جب خار و خس اٹھنے لگیں

کارواں کے کوچ کا عنوان بن جاتی ہے گرد

جو اکڑ کر چل رہا ہے ایک فرعوں کی طرح

ایسے انساں کو اشارہ اک مکافاتی ہے گرد

سارا دن ہم سات بھٹکیں شام کو تھک ہار کر

ساتھ میرے ہیر وارث شاہ کی گاتی ہے گرد

بس اسی خاطر تبسمؔ مجھ کو یہ بھاتی نہیں

آپ کی تصویر پر روزانہ پڑ جاتی ہے گرد