روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیا
Ejaz Asifروشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیا
آنکھ میں محفوظ تھے جتنے بھی منظر لے گیا
اجنبی سا لگ رہا ہوں آج اپنے آپ کو
آئنے کے سامنے میں کس کا پیکر لے گیا
کیوں نظر آتی نہیں اب کاٹی سطح آب پر
کھینچ کر ندی کے سر سے کون چادر لے گیا
پھر ہوئی آمادۂ پیکار پیڑوں سے ہوا
پھر کوئی جھونکا کئی پتے اڑا کر لے گیا
روکتے ہی رہ گئے دیوار و در آصفؔ مجھے
میں مگر چپ چاپ خود کو گھر سے باہر لے گیا