ہو گئے آنگن جدا اور راستے بھی بٹ گئے

Aanand Saroop Anjum

ہو گئے آنگن جدا اور راستے بھی بٹ گئے

کیا ہوا یہ لوگ کیوں اک دوسرے سے کٹ گئے

غم نے ہر اک راستے میں کھول رکھا تھا محاذ

ہم بھی چہرے پر ہنسی کا خول لے کر ڈٹ گئے

نفرتوں کی دھوپ جھلسانے لگی ہر شخص کو

پیار کے اس شہر میں سب پیڑ کیسے کٹ گئے

ڈر کی جب ساری حقیقت منکشف ہم پر ہوئی

خود بخود ڈر کے سبھی سائے اچانک ہٹ گئے

کون جانے کس نشیمن پر گری ہیں بجلیاں

کس طرف ٹوٹے ہوئے تاروں کے یہ جھرمٹ گئے

معتبر ہونے لگیں جب بزم میں تاریکیاں

خامشی کی اوٹ میں ہم لوگ پیچھے ہٹ گئے

گھر سے اے انجمؔ ذرا باہر نکل کر دیکھنا

لوگ کہتے ہیں کہ اب تاریک بادل چھٹ گئے