اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سے
Deedar Bastawiاب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سے
روشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سے
خواہشوں کی ارتھیاں اب تو اٹھیں گی شان سے
دل لگا بیٹھی ہے میری مفلسی دھنوان سے
چھو گیا جو بھول سے ان کے دوپٹے کا سرا
خوشبوئیں آنے لگیں سوکھے ہوئے گلدان سے
ذہن پر دنیا کی لالچ پھر سے حاوی ہو گئی
دے کے مٹی میں ابھی لوٹا تھا قبرستان سے
گر وفاداری کی خواہش ہے تو کتے پال لے
مت وفا کی آس رکھ اس دور کے انسان سے
شرط یہ ہے کچھ زمیں بونے کی خاطر تو ملے
جیت لوں گا میں جہاں کو ایک مٹھی دھان سے
چھیڑتی ہے یاد تیری جب مجھے پچھلے پہر
رونے لگتا ہوں میں لگ کے میرؔ کے دیوان سے
جن کو ہو جام شہادت کی طلب دیدارؔ پھر
وہ نہیں آتے پلٹ کر جنگ کے میدان سے