آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہی

Aanand Saroop Anjum

آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہی

زندگی کن راستوں میں کن ٹھکانوں میں رہی

وہ تو اک ہلکی سی دستک دے کے رخصت ہو گیا

اک صدا رس گھولتی دن رات کانوں میں رہی

لکھ گئی اپنے گھروں میں ایک کرب ناتمام

زندگی گویا ہمارے مہربانوں میں رہی

مٹ گئیں آنگن میں ساری کھیلتی پرچھائیاں

ایک بے کیفی مسلسل آشیانوں میں رہی

وہ زمیں کی سرحدوں میں ہی رہا انجمؔ مقیم

کیوں تلاش انسان کو پھر آسمانوں میں رہی