اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا
Ibrat Machlishahriاپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا
چھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیا
آج اس کی بے زبانی نے مجھے سمجھا دیا
کس لئے فطرت نے گل کو بے زباں رہنے دیا
زندگی تو کیا اثاثہ تک نہیں باقی بچا
قاتلوں نے اب کے بس خالی مکاں رہنے دیا
خوف رسوائی سے میں نے خط جلا ڈالا مگر
جانے کیوں اس چاند سے لب کا نشاں رہنے دیا
دوستی کو اپنی مجبوری نہیں سمجھا کبھی
فاصلہ میں نے برابر درمیاں رہنے دیا
بے گناہی کی صفائی دے بھی سکتا تھا مگر
کچھ سمجھ کر میں نے اس کو بد گماں رہنے دیا
آگ کے بازی گروں نے اب کے کھیل ایسا کھیلا
شہر کی تقدیر میں خالی دھواں رہنے دیا
کیا سیاسی چال ہے یہ ظالمان وقت کی
لے لیا سب کچھ مگر اک خوف جاں رہنے دیا
چونک چونک اٹھتا ہوں میں راتوں کو عبرتؔ خوف سے
خواب اس نے میری آنکھوں میں کہاں رہنے دیا