ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملا
Zafar Akbarabadiہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملا
کب ہمیں کوئی تحفظ ان پناہوں سے ملا
خود نمائی کے سوا کیا کج کلاہوں سے ملا
صرف اک جھوٹا تفاخر تھا جو شاہوں سے ملا
لوگ خالی ہاتھ آئے ہیں جہاں سے لوٹ کر
درد کا تحفہ ہمیں ان بارگاہوں سے ملا
ایک مرکز پر ہوئے یکجا کہاں پست و بلند
کب فقیروں کا ستارہ بادشاہوں سے ملا
زندگی بھر ہم رہے محو سفر لیکن ظفرؔ
منزلوں سے کچھ ہوا حاصل نہ راہوں سے ملا