خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئی

Naeem Sameer

خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئی

میں بظاہر چپ ہوا اور شاعری پیدا ہوئی

اس طرح ثابت ہوا غم اور خوشی کا امتزاج

ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں نمی پیدا ہوئی

جرم کی پاداش میں ہم خاک پر پھینکے گئے

سو یہاں پر انتقاماً زندگی پیدا ہوئی

خوف نے ہی مصلحت کی راہ بھی ایجاد کی

میں اندھیروں سے ڈرا اور روشنی پیدا ہوئی

دل میں کب اتری کسی کے بے معانی گفتگو

بات کرنے سے تو بس آواز ہی پیدا ہوئی