Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- ابر کوہسار تری آس کے مارے ہوئے ہممر ہی جائیں نہ کہیں پیاس کے مارے ہوئے ہمSaabir Usmani (b. 1979)
- منہ اندھیرے ہی کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھاایک منظر تھا کہ منظر سے نکلتا ہوا تھاNadeem ahmad (b. 1979)
- یاد پڑتا تو نہیں کب مرا دیکھا ہوا ہےایسا لگتا ہے کہ یہ سب مرا دیکھا ہوا ہےNadeem ahmad (b. 1979)
- خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیںشعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- رنگ اور نور کی تمثیل سے ہوگا کہ نہیںشب کا ماتم مری قندیل سے ہوگا کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیاسخت مشکل میں تھا آسانی سے آغاز کیاDaniyal Tareer (1980–2015)
- گو ذرا تیز شعاعیں تھیں ذرا مند تھے ہمتو نے دیکھا ہی نہیں غور سے ہر چند تھے ہمBakul Dev (b. 1980)
- لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجودفکر دیمک کی طرح چاٹ گئی میرا وجودFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیںکیسے دیں لفظوں کو ترتیب یہ فن جانتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- وادیٔ جسم میں بکھراؤ نہیں چاہتے ہیںہم ترے ہاتھوں کوئی گھاؤ نہیں چاہتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہماس قدر خود کو ستانا بھی نہیں چاہتے ہمParveen Shaghaf (b. 1980)
- ایسے حیراں ہیں کہ حیرت کی کوئی حد ہی نہیںعکس ٹوٹا ہے مگر آئنے پہ زد ہی نہیںBabar Ali Asad (b. 1980)
- تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی راتمری آنکھوں سے چھلکتی رہی ڈھلتی ہوئی راتYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہےآسماں جیسے مرا زیر زمیں آ گیا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- چور تھے لوگ جو سنگینیٔ ہجرت سے یہاںسانس بھی آتا نہیں ان کو سہولت سے یہاںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہم کو یہ ڈر ہے کہ امکان کسی اور کا ہےیعنی وہ شخص نگہبان کسی اور کا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- رنگ سے رنگ ملاتا ہوا جاتا ہوا توکہکشاں ایک بناتا ہوا جاتا ہوا توJahanzeb Sahir (b. 1983)
- آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھپہلے پڑھیے تو ذرا صبر کو تفسیر کے ساتھFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھےجو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھےAalam Nizami (b. 1984)
- جس طرح بچے بزرگوں کے چرن چومتے ہیںہم محبت سے محبت کا بدن چومتے ہیںAalam Nizami (b. 1984)
- میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرےکہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرےAalam Nizami (b. 1984)
- جنگلوں میں جو خدا تتلیاں محفوظ رکھےتو زمانے میں وہی لڑکیاں محفوظ رکھےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکامیں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکاAadil Farhat (b. 1984)
- یار صحراؤں کی آنکھوں میں سمندر بھی نہ تھاسامنے گھر کے مرے اور کوئی گھر بھی نہ تھاUmar Farhat (b. 1986)
- ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملےUmair Najmi (b. 1986)
- دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکاUmair Najmi (b. 1986)
- کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑےUmair Najmi (b. 1986)
- ہم نے یوں خود سے ترا ذکر کیا شام کے بعدجیسے گلشن میں چلے سرد ہوا شام کے بادUmair Ali Anjum (b. 1987)
- جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملالکیوں ہو پھر کھیل کے آداب نبھانے کا ملالCharagh Barelvi (b. 1988)
- تیرے لہجے تری باتوں میں کوئی اور بھی تھایوں ترے چاہنے والوں میں کوئی اور بھی تھاFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- کس نے اس دشت میں گھر بار لٹانا ہے میاںایسے ویرانے کو ہم نے ہی سجانا ہے میاںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- تجھ سے ہو پائے اگر صورت ایجاد میں لااپنی وحشت کو کبھی خانۂ آباد میں لاOzair Yusuf (b. 1989)
- یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیےزخم ہوتے تھے مرے پاس دکھانے کے لیےOzair Yusuf (b. 1989)
- تلخ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیابے نیازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیاLucky farooqi Hasrat (b. 1990)
- سرخ مٹی کو ہواؤں میں اڑاتے ہوئے ہماپنی آمد کے لئے دشت سجاتے ہوئے ہمNaeem Sarmad (b. 1992)
- صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھیاس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- ہم وہ ناداں تھے جو شہروں کو سکوں جانتے تھےتم نہیں آئے ادھر تم نے سمجھ داری کیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- لوگ جب جب تری آنکھوں میں خدا دیکھتے ہیںہم در مکر سبھی خلق پہ وا دیکھتے ہیںUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- نئے مجرم ہیں پرانوں کی طرف دیکھتے ہیںمقتدی اپنے اماموں کی طرف دیکھتے ہیںNadir Areez (b. 1993)
- ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھوہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھDanish Hayat (b. 1994)
- ہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیںایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی طرف دیکھتے ہیںAaquib Shaad (b. 1994)
- ہم کہاں اپنی محبت میں خلل چاہتے ہیںآپ ہر بات پہ کیوں رد عمل چاہتے ہیںFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
- راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اس پار تھا اس پار نہیں دیکھ سکاDanish Naqwi (b. 1995)
- یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنےDanish Naqwi (b. 1995)
- برف لہجوں کی پگھل جائے تو کچھ بات کریںجلتی رسی سے یہ بل جائے تو کچھ بات کریںMaham Khan (b. 1995)
- راستے لاکھ سہی کوئی بھی رہبر نہ لگےیہ بھی ممکن ہے کہ در وا ہو مگر در نہ لگےSabahat Urooj (b. 1995)
- یہ ہنر تو تری تخلیق کی تشہیر سے ہےکوئی دیوار سے ہے اور کوئی تصویر سے ہےDaniyal Zaman (b. 1996)
- اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیاسبز ڈالی تھی جہاں پیڑ وہ کاٹا نہ گیاOm Awasthi (b. 1996)
- اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگاب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگAamir Shauqi (b. 1997)
- تیری امید کے اسباب نظر آتے نہیںکیوں مجھے کوئی حسیں خواب نظر آتے نہیںAamir Shauqi (b. 1997)