تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہے

Nabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)

تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہے

آسماں جیسے مرا زیر زمیں آ گیا ہے

جس کے ملنے کو مسافت تھی کئی برسوں کی

ایک ہی پل میں وہ ہم زاد یہیں آ گیا ہے

نکھرا نکھرا سا ہے ہر شعر غزل کا میری

سوچ میں جب سے تصور وہ حسیں آ گیا ہے

ہر طرف طنز کے نشتر ہیں ہماری جانب

کس کے ہاتھوں میں مرا دین مبیں آ گیا ہے

آ گیا کام مرے روز کا رونا دھونا

جو نہ آتا تھا کبھی میرے قریں آ گیا ہے

گردش وقت ٹلی ایک ہی لمحے کو یوں ہی

رخ پہ زلفوں کو بکھیرے وہ حسیں آ گیا ہے

صحن گلشن میں سراسیمگی کیسی ہے نبیلؔ

اہل گلشن میں کوئی دشت نشیں آ گیا ہے