کس نے اس دشت میں گھر بار لٹانا ہے میاں
Faisal Imam Rizvi (b. 1988)کس نے اس دشت میں گھر بار لٹانا ہے میاں
ایسے ویرانے کو ہم نے ہی سجانا ہے میاں
آپ سے کس نے کہا آپ بھی بارش مانگیں
آپ کا کام فقط آگ لگانا ہے میاں
ان بھڑکتے ہوئے جذبات پہ قابو رکھیے
ہم نے اسٹیج پہ کچھ اور دکھانا ہے میاں
دوستی ہوتی تو پھر سب کو بتاتے پھرتے
یہ محبت ہے اسے سب سے چھپانا ہے میاں
نہ منافق ہو نہ آتی ہے خوشامد تم کو
تم نے کیا خاک یہاں نام کمانا ہے میاں
آپ سے کون کرے بحث سر بزم رقیب
آپ نے ہم پہ ہی الزام لگانا ہے میاں
آؤ سر رکھ لو بڑا چین ملے گا فیصلؔ
یہ طوائف کا نہیں یار کا شانہ ہے میاں