یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیے
Ozair Yusuf (b. 1989)یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیے
زخم ہوتے تھے مرے پاس دکھانے کے لیے
جھکنا پڑتا ہے مجھے زخم کھجانے کے لیے
اتنی زنجیر کہاں پاؤں اٹھانے کے لئے
لوگ سمجھے ہیں محبت کو لیے بیٹھا ہوں
حادثے اور بھی ہوتے ہیں سنانے کے لئے
منتظر گھر میں مرے کوئی نہیں ہوتا تھا
دیر کرتا تھا فقط دیر سے آنے کے لئے
کوئی تہوار مرے واسطے تہوار نہیں
اک ترا ہجر ہی کافی ہے منانے کے لیے
بھول جا دوست مرے اپنی محبت دے کر
قرض لیتا ہے یہاں کون چکانے کے لئے
کیل تصویر ہتھوڑی کو لیے پھرتا ہوں
کوئی دیوار نہیں ملتی لگانے کے لیے
ایک لمحے میں مرے بوجھ کے نیچے آ کر
سانس نکلا ہے مرا جان چھڑانے کے لیے
ربط ٹوٹا تھا مری آنکھ کے کھلتے ہی عزیرؔ
پھر نئے خواب میں اترا تھا پرانے کے لئے