برف لہجوں کی پگھل جائے تو کچھ بات کریں
Maham Khan (b. 1995)برف لہجوں کی پگھل جائے تو کچھ بات کریں
جلتی رسی سے یہ بل جائے تو کچھ بات کریں
وقت رخصت یہ سنا میں نے انہی یاروں سے
یہ ذرا دور نکل جائے تو کچھ بات کریں
اچھے موسم تری یادیں نئی موسیقی سے
دل کسی طور بہل جائے تو کچھ بات کریں
آخری بار جو ملنے کو گئے ہم تو کہا
یہ ذرا چائے ابل جائے تو کچھ بات کریں
تو نہیں ہے نہ تری یاد کی گہرائی ہے
دل حقیقت یہ نگل جائے تو کچھ بات کریں
ہر کسی کا ہے تقاضہ یہی اک دوجے سے
یہ مری سوچ میں ڈھل جائے تو کچھ بات کریں
وقت تجھ سے جو میسر ہو تو یاروں سے ملیں
اک تعلق یہ سنبھل جائے تو کچھ بات کریں
شب میں نظارۂ ماہمؔ سے ابھی دل میرا
حدت شوق سے جل جائے تو کچھ بات کریں