سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکا

Aadil Farhat (b. 1984)

سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکا

میں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکا

میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوں

درد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا

مدتوں بعد ترے ساتھ کسی کو دیکھا

اتنا گھبرایا کہ تصویر نہیں کھینچ سکا

وہ نظر آئی مجھے ریل کی کھڑکی سے مگر

طے شدہ وقت میں زنجیر نہیں کھینچ سکا

روز لڑتا ہوں میں خود اپنے ہی سائے کے خلاف

وہ شجر ہوں کہ جو رہ گیر نہیں کھینچ سکا

تیرے شانے کو میسر ہیں سبھی سر لیکن

اپنے شانے میں وہ تاثیر نہیں کھینچ سکا