ابر کوہسار تری آس کے مارے ہوئے ہم
Saabir Usmani (b. 1979)ابر کوہسار تری آس کے مارے ہوئے ہم
مر ہی جائیں نہ کہیں پیاس کے مارے ہوئے ہم
اپنی تقدیر کہاں رام سی اے اہل جہاں
گھر نہ آ پائیں گے بنواس کے مارے ہوئے ہم
کیا سنواریں گے کبھی حال کبھی مستقبل
ایک مدت سے ہیں اتہاس کے مارے ہوئے ہم
بھول جانا تمہیں آسان کہاں آج بھی ہے
بھول سکتے نہیں احساس کے مارے ہوئے ہم
جو بھی جینے کا اثاثہ ہے رکھیں گے گروی
ورنہ مر جائیں گے افلاس کے مارے ہوئے ہم