تیرے لہجے تری باتوں میں کوئی اور بھی تھا

Faisal Imam Rizvi (b. 1988)

تیرے لہجے تری باتوں میں کوئی اور بھی تھا

یوں ترے چاہنے والوں میں کوئی اور بھی تھا

میں تو شرمندہ ہوں اس روز سے بستر سے ترے

جب سے جانا ترے خوابوں میں کوئی اور بھی تھا

یوں مجھے ٹوٹ کے مت چاہو کہ میں جانتا ہوں

مجھ سے پہلے تری بانہوں میں کوئی اور بھی تھا

اجنبی شہر کی سڑکوں پہ مرا ہوں بے شک

جان لیوا مری راہوں میں کوئی اور بھی تھا

گو کہ محفل میں انہیں ہم سے ہے مطلب لیکن

ان کی بے تاب نگاہوں میں کوئی اور بھی تھا

وہ جو روئے تھے گلے لگ کے ہمارے فیصلؔ

ان کے بہتے ہوئے اشکوں میں کوئی اور بھی تھا