ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھ
Danish Hayat (b. 1994)ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھ
وہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھ
میں ترے ایسے پلٹنے پہ یہی سوچتا ہوں
کیا زمانے بھی پلٹ سکتے ہیں آواز کے ساتھ
کچھ تو بول اے مری خاموش طبیعت والے
کتنی تکرار کیا کرتا تھا ناراض کے ساتھ
اس کے قدموں میں رکھی جائے گی تلوار مری
مجھ کو انجام بتایا مرے آغاز کے ساتھ
کتنے اشکوں کا تعلق ہے مری وحشت سے
کتنے زخموں کا تعلق تری آواز کے ساتھ
ایک آواز ہے آواز بھی سرگوشی کی
اور تو کوئی نہیں ہے ترے ہمراز کے ساتھ
اب وہی شخص بتا سکتا ہے مجھ کو دانشؔ
کس قدر گہرے مراسم ہیں سخن ساز کے ساتھ