یار صحراؤں کی آنکھوں میں سمندر بھی نہ تھا
Umar Farhat (b. 1986)یار صحراؤں کی آنکھوں میں سمندر بھی نہ تھا
سامنے گھر کے مرے اور کوئی گھر بھی نہ تھا
کس طرح تجھ سے بھلا ملنے کی صورت بنتی
میری قسمت میں ترے وصل کا زیور بھی نہ تھا
کس طرح اڑنے کی امید پنپ سکتی تھی
آسمانوں پہ محبت کا کوئی پر بھی نہ تھا
میں پگھل جاتا محبت کے حسیں شعلے سے
پر مرے سامنے وہ موم کا پیکر بھی نہ تھا
دہر میں اب میں بھلا کس کی نمائش کرتا
اب وہ باہر ہے کہاں جو مرے اندر بھی نہ تھا