Poetry

Poet
Meter
  1. بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہےآج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہےParmod Lal Yakta
  2. بے زباں بھی تھا با زبان بھی تھاکچھ خموشی تھی کچھ بیان بھی تھاParmod Lal Yakta
  3. دنیائے حسن و عشق کا الٹا حساب ہےنا کامیاب ہے جو یہاں کامیاب ہےParmod Lal Yakta
  4. زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگParmod Lal Yakta
  5. زندگی کی راہوں میں تم ہو جلوہ گر تنہاظلمتیں ہیں ہر جانب شمع رہ گزر تنہاParmod Lal Yakta
  6. فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتییہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتیParmod Lal Yakta
  7. مناتے رہیے ماتم زندگی کانیا انداز ہے یہ خودکشی کاParmod Lal Yakta
  8. وہی سب سے مقدس مدعا ہےجو اب تک ان کہا ہے ان سنا ہےParmod Lal Yakta
  9. ہم رند خرابات کو اچھا نہ برا یادساقی کا کہا یاد نہ واعظ کا کہا یادParmod Lal Yakta
  10. اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہےجو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہےRafeeq Anjum
  11. در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئیبچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئیRafeeq Anjum
  12. دیکھ اپنا خیال کر باباہو گئی رات جا تو گھر باباRafeeq Anjum
  13. رات ہے کالی گھٹا ہے اور میںپر خطر یہ راستہ ہے اور میںRafeeq Anjum
  14. راہ ضد کی نہ اختیار کروسچی باتوں پہ اعتبار کروRafeeq Anjum
  15. شریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتےکسی کم ظرف سے ملنے کی چاہت ہم نہیں کرتےRafeeq Anjum
  16. منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتےمجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےRafeeq Anjum
  17. وقت کی رفتار کو پرکھا کروبند ہر جھگڑے کا دروازہ کروRafeeq Anjum
  18. یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتےوطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتےRafeeq Anjum
  19. آدمی آدمی سے ملتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیںراغب بدایونی
  20. ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوالگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہواراغب بدایونی
  21. ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
  22. بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعدآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعدراغب بدایونی
  23. جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گارنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گاراغب بدایونی
  24. دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریکخود اذیت خود اذیت میں شریکراغب بدایونی
  25. نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہوناابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہوناراغب بدایونی
  26. نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئیخدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئیراغب بدایونی
  27. واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کانام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کاراغب بدایونی
  28. بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیےجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیےشیخ علی بخش بیمار
  29. دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیاالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیاشیخ علی بخش بیمار
  30. دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
  31. رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
  32. فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
  33. کون برہم ہے زلف جاناں سےتنگ ہوں خاطر پریشاں سےشیخ علی بخش بیمار
  34. کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
  35. کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گراگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گراشیخ علی بخش بیمار
  36. نہ کہو اعتبار ہے کس کابے وفائی شعار ہے کس کاشیخ علی بخش بیمار
  37. گریباں سے ترے کس نے نکالا صبح خنداں کوکیا کس نے نہاں دامن کی کلیوں سے گلستاں کووحید الدین سلیم
  38. مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئےنور سخن سے دل کو چراغاں کئے ہوئےوحید الدین سلیم
  39. حسن کی زبان سےوحید الدین سلیم
  40. زندگیوحید الدین سلیم
  41. دعوت انقلابوحید الدین سلیم
  42. آریوں کی پہلی آمد ہندوستان میںوحید الدین سلیم
  43. عہد میر کی زبانوحید الدین سلیم
  44. میر کی شاعریوحید الدین سلیم
  45. اردو شاعری کا مطالعہوحید الدین سلیم
  46. اجالوں کی نمائش ہو رہی ہےاندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہےاختر علی اختر
  47. تم نے دیوانہ کیا اچھا ہواہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوااختر علی اختر
  48. حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نےترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نےاختر علی اختر
  49. دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایاکیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کااختر علی اختر
  50. دل و جاں ہم نثار کرتے ہیںوہ نگاہوں سے وار کرتے ہیںاختر علی اختر