Poetry
Poet
Meter
- بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہےآج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہےParmod Lal Yakta
- بے زباں بھی تھا با زبان بھی تھاکچھ خموشی تھی کچھ بیان بھی تھاParmod Lal Yakta
- دنیائے حسن و عشق کا الٹا حساب ہےنا کامیاب ہے جو یہاں کامیاب ہےParmod Lal Yakta
- زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگParmod Lal Yakta
- زندگی کی راہوں میں تم ہو جلوہ گر تنہاظلمتیں ہیں ہر جانب شمع رہ گزر تنہاParmod Lal Yakta
- فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتییہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتیParmod Lal Yakta
- مناتے رہیے ماتم زندگی کانیا انداز ہے یہ خودکشی کاParmod Lal Yakta
- وہی سب سے مقدس مدعا ہےجو اب تک ان کہا ہے ان سنا ہےParmod Lal Yakta
- ہم رند خرابات کو اچھا نہ برا یادساقی کا کہا یاد نہ واعظ کا کہا یادParmod Lal Yakta
- اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہےجو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہےRafeeq Anjum
- در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئیبچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئیRafeeq Anjum
- دیکھ اپنا خیال کر باباہو گئی رات جا تو گھر باباRafeeq Anjum
- رات ہے کالی گھٹا ہے اور میںپر خطر یہ راستہ ہے اور میںRafeeq Anjum
- راہ ضد کی نہ اختیار کروسچی باتوں پہ اعتبار کروRafeeq Anjum
- شریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتےکسی کم ظرف سے ملنے کی چاہت ہم نہیں کرتےRafeeq Anjum
- منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتےمجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےRafeeq Anjum
- وقت کی رفتار کو پرکھا کروبند ہر جھگڑے کا دروازہ کروRafeeq Anjum
- یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتےوطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتےRafeeq Anjum
- آدمی آدمی سے ملتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیںراغب بدایونی
- ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوالگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہواراغب بدایونی
- ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
- بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعدآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعدراغب بدایونی
- جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گارنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گاراغب بدایونی
- دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریکخود اذیت خود اذیت میں شریکراغب بدایونی
- نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہوناابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہوناراغب بدایونی
- نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئیخدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئیراغب بدایونی
- واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کانام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کاراغب بدایونی
- بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیےجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیےشیخ علی بخش بیمار
- دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیاالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیاشیخ علی بخش بیمار
- دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
- رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
- فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
- کون برہم ہے زلف جاناں سےتنگ ہوں خاطر پریشاں سےشیخ علی بخش بیمار
- کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
- کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گراگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گراشیخ علی بخش بیمار
- نہ کہو اعتبار ہے کس کابے وفائی شعار ہے کس کاشیخ علی بخش بیمار
- گریباں سے ترے کس نے نکالا صبح خنداں کوکیا کس نے نہاں دامن کی کلیوں سے گلستاں کووحید الدین سلیم
- مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئےنور سخن سے دل کو چراغاں کئے ہوئےوحید الدین سلیم
- حسن کی زبان سےوحید الدین سلیم
- زندگیوحید الدین سلیم
- دعوت انقلابوحید الدین سلیم
- آریوں کی پہلی آمد ہندوستان میںوحید الدین سلیم
- عہد میر کی زبانوحید الدین سلیم
- میر کی شاعریوحید الدین سلیم
- اردو شاعری کا مطالعہوحید الدین سلیم
- اجالوں کی نمائش ہو رہی ہےاندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہےاختر علی اختر
- تم نے دیوانہ کیا اچھا ہواہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوااختر علی اختر
- حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نےترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نےاختر علی اختر
- دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایاکیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کااختر علی اختر
- دل و جاں ہم نثار کرتے ہیںوہ نگاہوں سے وار کرتے ہیںاختر علی اختر