وہی سب سے مقدس مدعا ہے

Parmod Lal Yakta

وہی سب سے مقدس مدعا ہے

جو اب تک ان کہا ہے ان سنا ہے

جو میرا ہے وہی اس کا خدا ہے

وہ اتنا بھی نہیں پہچانتا ہے

مری خاموشیوں میں التجا ہے

سماعت اور سخن میں کیا رکھا ہے

وہ کچھ ایسا ہنر بھی جانتا ہے

کہ دنیا کی نظر میں پارسا ہے

یہ دل کا درد سچ مچ لا دوا ہے

اسداللہ غالبؔ نے کہا ہے

خیالوں کا اک ایسا دائرہ ہے

جہاں پر ابتدا ہی ابتدا ہے

وہ ویسے تو بہت نادان سا ہے

محبت کی نظر پہچانتا ہے

کبھی ہم کو میسر ہو نہ پائی

خوشی ہوتی تو ہے ہم نے سنا ہے

اندھیروں سے کہو ماتم منائیں

کہیں کوئی دیا روشن ہوا ہے