میر کی شاعری

وحید الدین سلیم

میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد

یکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں

یاروئے یار لایا، اپنی تو یوں ہی گزری

کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

ہماری تو گزری اسی طور عمر

یہی نالہ کرنا یہی زاریاں

حاصل کوئی امید ہوئی ہو تو میں کہوں

خون ہی ہوا کیے ہیں میرے دل میں سارے چاہ

کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے

چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد

دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

معیشت ہم فقیروں جیسی اخوان زماں سے کر

کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا

بسانِ خاک ہو پامال راہ خلق اے میر

رکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا

واں جہاں خاک کے برابر ہے

قدر ہفت آسمانِ ظلم شعار

یہی درخواست پاس دل کی ہے

نہیں روزہ نمازواں درکار

درمسجد پہ حلقہ زن ہو تم

کہ رہو بیٹھ خانہ خمار

جی میں آوے سو کیجیو پیارے

ایک ہو جو نہ درپے آزار

عرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں

گر اٹھے ہے غبار خاطر مور

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یاشادر ہو

ایسا کچھ کرکے چلو تم کہ بہت یاد رہو

ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں

یہ کارگاہ سازی دکان شیشہ گر ہے