شریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتے
Rafeeq Anjumشریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتے
کسی کم ظرف سے ملنے کی چاہت ہم نہیں کرتے
کسی کی چاپلوسی میں جو دن کو رات کہنا ہے
کبھی بھولے سے بھی اس کی حمایت ہم نہیں کرتے
مہذب دور میں بیٹوں کی بکری خوب ہوتی ہے
کوئی کہہ دے یہ ناجائز تجارت ہم نہیں کرتے
حصول منفعت اپنی نگاہوں میں مقدم ہے
انہیں وجہوں سے اظہار حقیقت ہم نہیں کرتے
بنی نوع بشر کی منزلت شیوہ ہمارا ہے
روایات بزرگاں سے بغاوت ہم نہیں کرتے
مسلماں ہیں زمانے کو پیام امن دیتے ہیں
جو دہشت گرد ہیں ان کی وکالت ہم نہیں کرتے
غلط کاری کا جو انجام ہونا تھا ہوا انجمؔ
مقدر کی خرابی کی شکایت ہم نہیں کرتے