راہ ضد کی نہ اختیار کرو
Rafeeq Anjumراہ ضد کی نہ اختیار کرو
سچی باتوں پہ اعتبار کرو
اپنے بل پر کرو جو کرنا ہو
کیوں کسی پر تم انحصار کرو
مشکلیں زندگی میں آتی ہیں
غم سے خود کو نہ ہمکنار کرو
ہر وجود بشر گھٹن میں ہے
کچھ فضاؤں کو خوش گوار کرو
عزت و قدر پاؤں چومے گی
اپنے اخلاق استوار کرو
داستاں ہے ابھی طویل بہت
جاؤ گھر کل کا انتظار کرو
فائدہ بھی ہے اس سے کیا انجمؔ
میرے زخموں کو مت شمار کرو