اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے
Rafeeq Anjumاس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے
جو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہے
لے ڈوبی تمنائے گہر مجھ کو بھی یارو
دریا سے ابھرنے کا اب امکان نہیں ہے
ہم پر ہی بس الزام لگا جلتے دنوں کا
اک تلخ حقیقت ہے یہ بہتان نہیں ہے
ہر گام پہ ہے دل کے لٹیروں کا بسیرا
اس راہ پہ چلنا کوئی آسان نہیں ہے
احساس کے ساحل پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
لفظوں کے سمندر میں وہ طوفان نہیں ہے
بھونرے تو بہت چاؤ سے پھر آتے ہیں انجمؔ
اور آج مری میز پہ گلدان نہیں ہے