در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئی

Rafeeq Anjum

در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئی

بچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئی

بازار میں گلی میں قدم پھونک کر رکھو

اب ہر جگہ کی شرح شرافت بدل گئی

گمنام تھے تو باتوں میں ان کی خلوص تھا

شہرت ملی تو صورت حالت بدل گئی

پتھر جو پھینکتے ہو ہمارے مکان پر

کیا شیشے کی تمہاری عمارت بدل گئی

برسوں کے تجربے کا خلاصہ یہی تو ہے

انگڑائی لی ذرا تو حکومت بدل گئی

قاتل پہنچتے کیفر کردار تک مگر

سارے گواہوں کی ہی شہادت بدل گئی

پہلے تو خوش مزاج تھے انجمؔ بتائیے

افتاد کیا پڑی کہ وہ عادت بدل گئی