کون برہم ہے زلف جاناں سے

شیخ علی بخش بیمار

کون برہم ہے زلف جاناں سے

تنگ ہوں خاطر پریشاں سے

مژدہ اے خار دشت دست جنوں

گزرے ہم دامن و گریباں سے

دانت کس کا ہے جام پر ساقی

مے ٹپکتی ہے ابر نیساں سے

گر یہی رنگ ہے زمانے کا

باز آیا میں کفر و ایماں سے

بیٹھ جاتا ہے آ کے میرے پاس

جو نکلتا ہے بزم جاناں سے

حور عاشق نواز ہے کوئی

پہلے پوچھیں گے ہم یہ رضواں سے