دیکھ اپنا خیال کر بابا

Rafeeq Anjum

دیکھ اپنا خیال کر بابا

ہو گئی رات جا تو گھر بابا

دھوپ اترے گی تیرے کمرے میں

رکھ دریچے کو کھول کر بابا

یاد رکھنا مجھے دعاؤں میں

تاکہ آساں رہے سفر بابا

جس کا ہے انتظار برسوں سے

جانے کب ہوگی وہ سحر بابا

اٹھ رہا ہے اسی طرف وہ دھواں

اپنی کٹیا کی لے خبر بابا

لٹ نہ جائے متاع دل اپنی

یہ لٹیروں کا ہے نگر بابا

اس طرح گاؤں سے گیا انجمؔ

پھر نہ آیا وہ لوٹ کر بابا