وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

Rafeeq Anjum

وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

بند ہر جھگڑے کا دروازہ کرو

منہ سے نکلی بات کی ہوگی پکڑ

آگے پیچھے سوچ کر بولا کرو

صرف غیروں کی زبانیں سیکھ کر

مشورہ ہے خود کو مت گونگا کرو

عہد پورا ہی نہیں کرنا ہے جب

زندگی بھر وعدۂ فردا کرو

تم اگر نازاں ہو اپنے آپ پر

وقت فرصت آئنہ دیکھا کرو

شہر کی آخر یہ حالت کب تلک

اہل دربھنگہ ذرا سوچا کرو

ہر طرف انجمؔ نئے مضمون کی

ڈھیر سی ہیں تتلیاں پکڑا کرو