یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتے

Rafeeq Anjum

یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتے

وطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتے

گرفتار بلا رہتے ہیں لیکن شکر ہے یارو

کسی طور اپنی ہم نیلام خودداری نہیں کرتے

ابھی خنجر لیے رہتا ہے گلیاروں میں ہر کوئی

اڑے گا سر تمہارا بھی کہ ہشیاری نہیں کرتے

گلے اس کے علاوہ کچھ نہ ہوں گے پوچھ کر دیکھو

ہم ان کے در پہ صبح و شام درباری نہیں کرتے

ہماری بے گناہی ہو گئی شامل گناہوں میں

تو منصف کس لیے حکم سزا جاری نہیں کرتے

وہ جن کے خانۂ دل میں ہے قندیل انا روشن

غلط رسم روایت کی طرف داری نہیں کرتے

خدا کے نیک بندوں کی ہے یہ پہچان اے انجمؔ

وہ اپنے کیا پرائے کی دل آزاری نہیں کرتے