فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتی
Parmod Lal Yaktaفقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتی
یہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتی
جو ہم نے کہہ دیا تصدیق کا محتاج ہوتا ہے
ہماری بات اکثر مستند مانی نہیں جاتی
جنوں والوں کو اب تو واقعی ناداں سمجھتے ہیں
نہ جانے کیوں خرد والوں کی نادانی نہیں جاتی
برہنہ ہے اگر انساں مہذب ہو نہ مخلص ہو
فقط ملبوس سے انساں کی عریانی نہیں جاتی
تو پھر کیسے نہ ہو ہم کو تغیر کا یقیں یکتاؔ
جب اپنی شکل خود ہم سے ہی پہچانی نہیں جاتی