رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں

Rafeeq Anjum

رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں

پر خطر یہ راستہ ہے اور میں

پار اترنے کی کوئی صورت نہیں

کشتیٔ بے نا خدا ہے اور میں

کس ڈگر پر آ دبوچے کیا پتہ

پیچھے پیچھے حادثہ ہے اور میں

آندھیوں کا زور کم ہوتا نہیں

پھوس کا یہ جھونپڑا ہے اور میں

اپنے اندر کی دہکتی آگ سے

ہر کوئی شعلہ نوا ہے اور میں

عافیت کی کرتے رہیے گا دعا

جال سازش کا بچھا ہے اور میں

گردش ایام کا انجمؔ سنو

سلسلہ در سلسلہ ہے اور میں