Poetry
Poet
Meter
- غبار خاطر ناشاد ہوں میںکہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میںفروغ حیدرآبادی
- کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتیہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتیفروغ حیدرآبادی
- مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیالیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیافروغ حیدرآبادی
- وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کااب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کافروغ حیدرآبادی
- ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھیاور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھیفروغ حیدرآبادی
- اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرےجان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرےغلام بھیک نیرنگ
- کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگیغلام بھیک نیرنگ
- کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سےان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سےغلام بھیک نیرنگ
- کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتیغلام بھیک نیرنگ
- مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کررہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کرغلام بھیک نیرنگ
- پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہیسر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہیغلام بھیک نیرنگ
- کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہوغلام بھیک نیرنگ
- مقصود الفتغلام بھیک نیرنگ
- انسان کی فریادغلام بھیک نیرنگ
- ادائیں ہیں جو اس رشک پری میںنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میںہاجر دہلوی
- الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
- رنج میں بھی شاد رہنا چاہئےیہ مقولہ یاد رہنا چاہئےہاجر دہلوی
- رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
- سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیںانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیںہاجر دہلوی
- عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہےمری جاں کیا یہی رسم وفا ہےہاجر دہلوی
- مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
- نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہےخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہےہاجر دہلوی
- کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیانہیں جب ربط تو پھر مدعا کیاہاجر دہلوی
- آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
- اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھاب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھJalal Aarif
- بھلا ہو اس کا جو رستے میں مجھ کو ڈال گیازمانہ سنگ سمجھ کر مجھے اچھال گیاJalal Aarif
- جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
- جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
- دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہےJalal Aarif
- سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہےہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہےJalal Aarif
- عشق بے خود تھا بے حجاب آیاحسن ڈالے ہوئے نقاب آیاJalal Aarif
- مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دےمجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دےJalal Aarif
- شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پروہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پرجگر بسوانی
- شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظجگر بسوانی
- عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کاجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کاجگر بسوانی
- کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گاجس طرح رات کٹی دن بھی گزر جائے گاجگر بسوانی
- منظور نظر ہے دل غم خوار تمہاراجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہاراجگر بسوانی
- یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلامیں یہ سمجھا کہ ترے وصل کا ارماں نکلاجگر بسوانی
- بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میںکبھی آ جائیں شاید میرے گھر آپجگر بسوانی
- دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گاجگر بسوانی
- جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھادیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھاجگر بسوانی
- ان بتوں کی جو چاہ کرتے ہیںدل و دیں کو تباہ کرتے ہیںنواب امراوبہادر دلیر
- ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دلصدقے ہیں جس کی ایک ادا پر ہزار دلنواب امراوبہادر دلیر
- اے دل ہوا ہے جیسے مرے دل کو تو پسندآیا کوئی حسین نہ ترے روبرو پسندنواب امراوبہادر دلیر
- چلتا ہے آفتاب کا دور اس قمر کے ساتھہم عیب بھی جو کرتے ہیں تو اک ہنر کے ساتھنواب امراوبہادر دلیر
- خیال اتنا ستم ایجاد رکھناوفائیں کچھ ہماری یاد رکھنانواب امراوبہادر دلیر
- سامنا ہے نگاہ قاتل کادیکھنا حوصلہ مرے دل کانواب امراوبہادر دلیر
- کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہدیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہنواب امراوبہادر دلیر
- گزارے ہجر میں برسوں ہی وصل یار کے بعداٹھایا جبر بہت ہم نے اختیار کے بعدنواب امراوبہادر دلیر
- انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کاشیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کانواب امراوبہادر دلیر