کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے
Faiz Tabassum Tonsviکوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے
جتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہے
دل کے کارن اس دنیا میں کتنے گھاؤ کھائے ہیں
لیکن جب بھی موقع آیا بات اسی کی مانی ہے
یہ سنسار ہے گہرا ساگر اس کے اندر موتی ہیں
ساحل پر تم موتی ڈھونڈو یہ تو بڑی نادانی ہے
یوں تو اس جیون کا پل پل ایک سہانا سپنا ہے
منموہن البیلا ساجن اس میں ایک جوانی ہے
ان آنکھوں نے آج نہ جانے کیسا منظر دیکھا ہے
آج مرا دل دھڑک رہا ہے آج بڑی حیرانی ہے
ایوانوں میں رہنے والو کٹیاؤں پر ایک نظر
مال و منال کی قیمت کیا ہے یہ دنیا تو فانی ہے
الجھاؤ پہ الجھاؤ ہیں اس ہستی کی بستی میں
ایک طویل بکھیڑا ہے یہ ایک عجیب کہانی ہے
من مندر میں فیضؔ ہمارے میلہ ہے کنیاؤں کا
ہر صورت اک مورت ہے اور ہر تصویر سہانی ہے