آپ کے شہر میں آنے والے

Faiz Tabassum Tonsvi

آپ کے شہر میں آنے والے

یعنی خود جان سے جانے والے

سوچتا رہتا ہوں کیسے ہوں گے

حال دل دل میں چھپانے والے

بھول جانا تری عادت ہی سہی

ہم نہیں تجھ کو بھلانے والے

ہم چٹانوں کی طرح قائم ہیں

کچھ کہیں ہم کو زمانے والے

میری تقدیر کے بھی مالک ہیں

فیضؔ بگڑی کو بنانے والے