جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ

Yasmeen Habeeb

جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ

جو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھ

کبھی سر میں سودا سما کوئی کبھی ریگزار میں رقص کر

کبھی زخم باندھ کے پاؤں میں کہیں سرخ سرخ دھمال رکھ

جو چرائی ہے شب تار سے کئی رتجگوں کو گزار کے

وہی کاجلوں کی لکیر ہے اپنی آنکھ میں ڈال ڈال رکھ

کسی تارہ تارہ فراق سے کوئی گفتگو کوئی بات کر

یہ جواب گاہ شعور ہے کوئی اپنے پاس سوال رکھ

ترے درد سارے گراں بہا تری وحشتیں ہیں عظیم تر

وہی بال کھول کے بین کر وہی شام صحن ملال رکھ

جہاں لغزشوں سے مفر نہیں یہ وہ آگہی کا مقام ہے

یہاں ہست و بود کو بھول جا نئی قربتوں سے وصال رکھ

یہ جو روشنی کا ہے دائرہ یہ رہین شمس و قمر نہیں

ترے بس میں کب تھا کہ اب رہے تو عروج رکھ یا زوال رکھ