مائل بہ دوستی وہ کدھر ہے کدھر نہیں

Zafar Akbarabadi

مائل بہ دوستی وہ کدھر ہے کدھر نہیں

اللہ جانتا ہے مجھے کچھ خبر نہیں

ہر چند کچھ بھی دوریٔ قلب و نظر نہیں

اک دوسرے سے پھر بھی مگر باخبر نہیں

ہر سطح رنگ سے ہے مذاق نظر بلند

جلوہ یہاں کوئی بھی بہ قدر نظر نہیں

ان دیکھی منزلوں کا ہے اس آئنہ میں عکس

یہ میرا دل ہے سنگ سر رہ گزر نہیں

چھا جائے لاکھ چاند ستاروں پہ آدمی

کچھ بھی نہیں جو وسعت قلب و نظر نہیں

دامن غبار سے نہ بچاؤ مسافرو

سرمایۂ سفر ہے یہ گرد سفر نہیں

سستائے کیا ظفرؔ کوئی راہ حیات میں

وہ دھوپ ہے کہ چھاؤں کسی موڑ پر نہیں