شریک حال جب ناکامیٔ تدبیر ہوتی ہے

Zafar Akbarabadi

شریک حال جب ناکامیٔ تدبیر ہوتی ہے

تو پھر وحشت اثر ہر خواب کی تعبیر ہوتی ہے

اسی کو صرف جبر زیست کا ہوتا ہے اندازہ

کہ جس کے پاؤں میں حالات کی زنجیر ہوتی ہے

غرض سے دست برداری ہے معراج آدمیت کی

اسی احساس سے کردار کی تعمیر ہوتی ہے

میں اس کو بھول جانے کا ارادہ جب بھی کرتا ہوں

تو یاد اس کی بڑی شدت سے دامن گیر ہوتی ہے

ضروری ہے ظفرؔ خون جگر کی رنگ آمیزی

بغیر اس کے مکمل کب کوئی تصویر ہوتی ہے