مجھے خدشہ ہے اپنی چشم تر سے
Zafar Akbarabadiمجھے خدشہ ہے اپنی چشم تر سے
کہیں پانی گزر جائے نہ سر سے
جلا دی ہیں ابھی سے میں نے شمعیں
مجھے ہے انتظار شب سحر سے
سفینے واقعی ہوں گر سفینے
تو کب مرعوب ہوتے ہیں بھنور سے
ہوا یوں درمیاں حائل زمانہ
ہم اوجھل ہو گئے اپنی نظر سے
انہیں داد سفر دیتی ہے منزل
جو گھبراتے نہیں طول سفر سے
ترے آگے کوئی کیا لب کشا ہو
دھڑک اٹھتے ہیں دل تیری نظر سے
بہت صحرا کو تھیں جن سے امیدیں
وہ بادل بھی ظفرؔ گلشن پہ برسے