انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہے

فرحت کانپوری

انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہے

ممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہے

رہتا ہے یوں جہاں میں گم سم ہو کر

چھیڑے جو کوئی تو صرف رو دیتا ہے