Poetry

Poet
Meter
  1. آئی بہار دور ہو ساقی شراب کادریا بہا دے بزم میں اشک کباب کانسیم میسوری
  2. تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتےجو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتےنسیم میسوری
  3. جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھیبلبل جاں مری بسمل کبھی ایسی تو نہ تھینسیم میسوری
  4. دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہواے بت خدا تلک بھی ترا آشنا نہ ہونسیم میسوری
  5. سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہارتو ہے قبلہ تو ہے کعبہ تو ہے ایمان بہارنسیم میسوری
  6. سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہراسورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرانسیم میسوری
  7. قبول کیجیے انکار کا مقام نہیںیہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیںنسیم میسوری
  8. ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسےبنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسےنسیم میسوری
  9. مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی راتآ مرے چاند کے ٹکڑے مرے گھر آج کی راتنسیم میسوری
  10. میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتاہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتانسیم میسوری
  11. میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہواچشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوانسیم میسوری
  12. وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیںتمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیںنسیم میسوری
  13. اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کاگئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کاشبلی نعمانی
  14. پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھارخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھاشبلی نعمانی
  15. تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیاجائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیاشبلی نعمانی
  16. تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوںواعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوںشبلی نعمانی
  17. علمائے زندانیشبلی نعمانی
  18. ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کوغم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کوشبلی نعمانی
  19. یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائےگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائےشبلی نعمانی
  20. مولویوں کا شغل تکفیرشبلی نعمانی
  21. حقائق اشیا اور معشوق حقیقیشبلی نعمانی
  22. عدل فاروقی کا ایک نمونہشبلی نعمانی
  23. عدل جہانگیریشبلی نعمانی
  24. کچھ اکیلی نہیں میری قسمتغم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہےشبلی نعمانی
  25. مسلم لیگشبلی نعمانی
  26. ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
  27. بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برااپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام براشوق قدوائی
  28. تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھامانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھاشوق قدوائی
  29. تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہےاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہےشوق قدوائی
  30. جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیامری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیاشوق قدوائی
  31. دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھاگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھاشوق قدوائی
  32. دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیااپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیاشوق قدوائی
  33. روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کراس نے چڑھائیں تیوریاں میرا قرار دیکھ کرشوق قدوائی
  34. لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہےسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہےشوق قدوائی
  35. مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہےکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہےشوق قدوائی
  36. وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہےنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہےشوق قدوائی
  37. ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیاکبھی وہ مسکرا دیتا تھا اب اس سے بھی باز آیاشوق قدوائی
  38. فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی
  39. آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوںخود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوںYasin Ali Khan Markaz
  40. اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہےتجھ پہ ہیں سارے مبتلا بہر خدا تو کون ہےYasin Ali Khan Markaz
  41. جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیںمری ذات عین کی عین ہے وہاں دوسری کا نشاں نہیںYasin Ali Khan Markaz
  42. جہاں بات وحدت کی گہری رہے گیوہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گیYasin Ali Khan Markaz
  43. ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیںوہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیںYasin Ali Khan Markaz
  44. ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تووائے اپنے سے بے خبر ہے توYasin Ali Khan Markaz
  45. شرک کا پردہ اٹھایا یار نےہم کو جب اپنا بنایا یار نےYasin Ali Khan Markaz
  46. عاشقی کے آشکارے ہو چکےحسن یکتا کے پکارے ہو چکےYasin Ali Khan Markaz
  47. عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہےخدا کی طلب شرک کی جستجو ہےYasin Ali Khan Markaz
  48. عیاں ہو آپ بیگانہ بنایاوجود خاک کا شانہ بنایاYasin Ali Khan Markaz
  49. غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیںموجود ہے نظر میں جس کو پکارتے ہیںYasin Ali Khan Markaz
  50. یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرحکافر بنے نہ ہم نہ مسلماں کسی طرحYasin Ali Khan Markaz