Poetry
Poet
Meter
- آئی بہار دور ہو ساقی شراب کادریا بہا دے بزم میں اشک کباب کانسیم میسوری
- تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتےجو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتےنسیم میسوری
- جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھیبلبل جاں مری بسمل کبھی ایسی تو نہ تھینسیم میسوری
- دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہواے بت خدا تلک بھی ترا آشنا نہ ہونسیم میسوری
- سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہارتو ہے قبلہ تو ہے کعبہ تو ہے ایمان بہارنسیم میسوری
- سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہراسورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرانسیم میسوری
- قبول کیجیے انکار کا مقام نہیںیہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیںنسیم میسوری
- ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسےبنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسےنسیم میسوری
- مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی راتآ مرے چاند کے ٹکڑے مرے گھر آج کی راتنسیم میسوری
- میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتاہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتانسیم میسوری
- میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہواچشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوانسیم میسوری
- وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیںتمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیںنسیم میسوری
- اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کاگئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کاشبلی نعمانی
- پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھارخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھاشبلی نعمانی
- تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیاجائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیاشبلی نعمانی
- تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوںواعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوںشبلی نعمانی
- علمائے زندانیشبلی نعمانی
- ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کوغم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کوشبلی نعمانی
- یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائےگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائےشبلی نعمانی
- مولویوں کا شغل تکفیرشبلی نعمانی
- حقائق اشیا اور معشوق حقیقیشبلی نعمانی
- عدل فاروقی کا ایک نمونہشبلی نعمانی
- عدل جہانگیریشبلی نعمانی
- کچھ اکیلی نہیں میری قسمتغم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہےشبلی نعمانی
- مسلم لیگشبلی نعمانی
- ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
- بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برااپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام براشوق قدوائی
- تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھامانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھاشوق قدوائی
- تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہےاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہےشوق قدوائی
- جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیامری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیاشوق قدوائی
- دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھاگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھاشوق قدوائی
- دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیااپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیاشوق قدوائی
- روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کراس نے چڑھائیں تیوریاں میرا قرار دیکھ کرشوق قدوائی
- لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہےسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہےشوق قدوائی
- مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہےکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہےشوق قدوائی
- وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہےنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہےشوق قدوائی
- ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیاکبھی وہ مسکرا دیتا تھا اب اس سے بھی باز آیاشوق قدوائی
- فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی
- آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوںخود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوںYasin Ali Khan Markaz
- اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہےتجھ پہ ہیں سارے مبتلا بہر خدا تو کون ہےYasin Ali Khan Markaz
- جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیںمری ذات عین کی عین ہے وہاں دوسری کا نشاں نہیںYasin Ali Khan Markaz
- جہاں بات وحدت کی گہری رہے گیوہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گیYasin Ali Khan Markaz
- ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیںوہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیںYasin Ali Khan Markaz
- ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تووائے اپنے سے بے خبر ہے توYasin Ali Khan Markaz
- شرک کا پردہ اٹھایا یار نےہم کو جب اپنا بنایا یار نےYasin Ali Khan Markaz
- عاشقی کے آشکارے ہو چکےحسن یکتا کے پکارے ہو چکےYasin Ali Khan Markaz
- عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہےخدا کی طلب شرک کی جستجو ہےYasin Ali Khan Markaz
- عیاں ہو آپ بیگانہ بنایاوجود خاک کا شانہ بنایاYasin Ali Khan Markaz
- غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیںموجود ہے نظر میں جس کو پکارتے ہیںYasin Ali Khan Markaz
- یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرحکافر بنے نہ ہم نہ مسلماں کسی طرحYasin Ali Khan Markaz