لمس تشنہ لبی سے گزری ہے
Yasmeen Habeebلمس تشنہ لبی سے گزری ہے
رات کس جاں کنی سے گزری ہے
اس مرصع نگار خانے میں
آنکھ بے منظری سے گزری ہے
ایک سایہ سا پھڑپھڑاتا ہے
کوئی شے روشنی سے گزری ہے
لوٹنے والے ساتھ ساتھ رہے
زندگی سادگی سے گزری ہے
کچھ دکھائی نہیں دیا شاید
عمر اندھی گلی سے گزری ہے
شام آتی تھی دن گزرنے پر
کیا ہوا کیوں ابھی سے گزری ہے
کتنی ہنگامہ خیزیاں لے کر
اک صدا خامشی سے گزری ہے
آنکھ بینائی کے تعاقب میں
کیسی لا حاصلی سے گزری ہے