مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے
Yasmeen Habeebمجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے
میری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھے
رخش ابد خرام کی تھمتی نہیں ہیں بجلیاں
صبح ازل نژاد سے کرنا ہے مشورہ مجھے
لوح جہاں سے پیشتر لکھا تھا کیا نصیب میں
کیسی تھی میری زندگی کچھ تو چلے پتہ مجھے
کیسے ہوں خواب آنکھ میں کیسا خیال دل میں ہو
خود ہی ہر ایک بات کا کرنا تھا فیصلہ مجھے
چھوٹے سے اک سوال میں دن ہی گزر گیا مرا
تو ہے کہ اب نہیں ہے تو بس یہ ذرا بتا مجھے
کیسے گزرنا ہے مجھے اس پل صراط وقت سے
ویسے تو دے گئے سبھی جاتے ہوئے دعا مجھے
میرا سفر مرا ہی تھا اٹھتے کسی کے کیا قدم
اپنے لیے تھا کھوجنا اپنا ہی نقش پا مجھے
لگتا ہے چل رہی ہوں میں روح تمام کی طرف
جیسی تھی ابتدا مجھے ویسی ہے انتہا مجھے