کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی

Yasmeen Habeeb

کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھی

میں اپنے آپ سے رخصت ہوئی تھی

پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا ذرا سا

مجھے خود پر بڑی حیرت ہوئی تھی

اچانک آ گئی تھی اپنے آگے

اچانک بات کی جرأت ہوئی تھی

خود اپنا ساتھ بھی چبھنے لگا تھا

عجب تنہائی کی عادت ہوئی تھی

مرے اندر بھنور اٹھنے لگے تھے

سمندر سے بڑی وحشت ہوئی تھی

بہت سرگوشیاں شیشے سے کی تھیں

کسی کی مجھ سے بھی غیبت ہوئی تھی