ہے تو کوشش یہی دل دشت تمنا نہ بنے
Zafar Akbarabadiہے تو کوشش یہی دل دشت تمنا نہ بنے
پھر بھی بنتا ہے جو ویرانہ تو ویرانہ بنے
خاک بھی جل کے ہو پروانہ پھر اس پر یہ ستم
غازۂ شمع بھی خاک پر پروانہ بنے
کچھ ڈھلے رات جو اتریں تری نظریں دل میں
کچھ بنے بات جو تو زینت کاشانہ بنے
جیسے سناٹوں میں دل گم ہے نہ ہو گم کوئی
یوں نہ سنسان ہو یوں گھر کوئی صحرا نہ بنے
وہ جو چاہے تو ملے دولت بیدار جنوں
وہ نہ چاہے تو کوئی کس طرح دیوانہ بنے
سوچتے ہیں کہ اس اک بات کو ہم دیں کیا نام
جو حقیقت میں ڈھلے اور نہ افسانہ بنے
کون سینے سے لگائے پھرے اس دل کو ظفرؔ
ہوش میں آ کے بھی جو ہوش سے بیگانہ بنے