حدیث زندگی سنتے رہے ہیں
Faiz Tabassum Tonsviحدیث زندگی سنتے رہے ہیں
بڑی مدت سے سر دھنتے رہے ہیں
ہوئے ہیں پاش اک ضرب فنا سے
جو سپنے عمر بھر بنتے رہے ہیں
بھرا پھولوں سے تھا گلشن کا دامن
مگر ہم خار ہی چنتے رہے ہیں
رباب وقت نے چھیڑا ترانہ
جسے ہم ڈوب کر سنتے رہے ہیں
سر رہ ہر قدم بکھرے تھے کانٹے
جنہیں پلکوں سے ہم چنتے رہے ہیں
عروس شاعری تیرے لیے ہم
سخن کے پھول ہی چنتے رہے ہیں
سنا فیضؔ حزیں تیرا فسانہ
جو اہل دل تھے سر دھنتے رہے ہیں