حسن مجبور جفا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
Faiz Tabassum Tonsviحسن مجبور جفا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
عشق پابند وفا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
ہم سمجھتے تھے کہ جاں لے کے رہے گا یہ غم
درد خود اپنی دوا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
ہم تو تھے شاکیٔ بے مہریٔ ایام مگر
ان کے لب پر بھی گلہ ہے ہمیں معلوم نہ تھا