زندگی نام ہے تغیر کا
Faiz Tabassum Tonsviزندگی نام ہے تغیر کا
گر تغیر نہ ہو تو زیست محال
ذرہ ذرہ ہے انقلاب پذیر
یہی فطرت کی آرزو کا کمال
روک لے راستہ مشیت کا
کس کی طاقت ہے اور کس کی مجال
ایک گہرا سا ربط قائم ہے
درمیان رہ فراق و وصال
لوگ آتے ہیں لوگ جاتے ہیں
ہے یہی اپنی زندگی کا مآل
جب ترقی کے مرحلے ہوں طے
ملک و ملت کا لازمی ہے خیال
تن کی پاکیزگی بھی اچھی ہے
من کی پاکیزگی ہے حسن خصال
مہر و الفت کا درس عام کریں
بانٹنے سب میں ہے یہ آب زلال
بخش دیں گر کوئی کرے تقصیر
یہ ہے انسانیت کا اوج کمال
راستہ ہو غلط تو رک جاؤ
نہ چلو چال جو ہو ٹیڑھی چال
بھول کر بھی نہ ایسا کام کریں
جس سے حاصل ہو رنج و حزن و ملال